ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مانسون اجلاس2 دن قبل ہی ختم، اپوزیشن قطعی نظر انداز،حزب اختلاف پیگاسس، زرعی قوانین اور مہنگائی پر احتجاج کرتا رہا مگر سرکار نے ایک نہ سنی

مانسون اجلاس2 دن قبل ہی ختم، اپوزیشن قطعی نظر انداز،حزب اختلاف پیگاسس، زرعی قوانین اور مہنگائی پر احتجاج کرتا رہا مگر سرکار نے ایک نہ سنی

Thu, 12 Aug 2021 11:45:57    S.O. News Service

نئی دہلی، 12؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)  پیگاسس، مہنگائی اور زرعی قوانین پر کسی طرح کی  بحث کے بغیر ہی  بدھ کو پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا کی کارروائی کوغیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیاگیا۔ اس طرح  پارلیمنٹ  کے مانسون اجلاس کی کارروائی طے شدہ میعاد سے 2 روز قبل  ملتوی کردی گئی۔ حکومت کے اس اقدام پر اپوزیشن  نے سختی سے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اسے جمہوریت کیلئے نقصاندہ قراردیاہے۔ واضح رہے کہ  مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن  پیگاسس پر بحث کیلئے چیختا رہامگر مودی حکومت نے اسے قطعی نظر انداز کیا اور  اپنی اکثریت کافائدہ اٹھاتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی بل بغیر بحث کے ہی پاس کروالئے اورپھر بدھ کو  اچانک مانسون اجلاس کے خاتمےکا اعلان کردیاگیا۔ 

19 جولائی سے شروع ہونے والے  پارلیمنٹ کے  مانسون اجلاس کو13اگست تک چلنا تھا لیکن اپوزیشن  کےاحتجاج اور پیگاسس پر بحث کے مطالبے کے سبب ایک دن بھی اجلاس   مکمل طور پر نہیں چل سکا جبکہ حکومت ہند بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے ضروری بلوں کو ہنگامہ آرائی کے درمیان پاس کراتی رہی ہے ۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک زبان ہوکر یہ مطالبہ کرتی رہیں کہ پیگاسس جاسوسی کے معاملہ میں خصوصی بحث کرائی جائے اور وزیر اعظم نریندر مودی خود آکر ایوان میں جواب دیں مگر پورے اپوزیشن کو حکومت نے قطعی نظر انداز کردیا۔ 

 کانگریس نے حکومت کے اس طرز عمل کو جمہوریت کیلئے نقصاندہ قرار دیا ہے۔  لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری   نے کارروائی غیر معینہ مدت کیلئےملتوی کرنے پر صدائےاحتجاج بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میںاضافہ اور کسانوں کےاحتجاج جیسے عام آدمی سےجڑےموضوعات پر بھی بولنے نہیں دیاگیا۔ انہوں  نے کہا کہ  اپوزیشن روز اول سے ان موضوعات پر بحث کی مانگ کر رہا تھا مگر حکومت نے ایوان کی کارروائی احسن طریقے سے چلانےکی اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی بلکہ من مانے طریقے سے کام کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ حکومت کاکام نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط  ہےکا فیصلہ کرے...یا یہ طے کرے کون سے مطالبے صحیح ہیں اور کون سے غلط، ایسی حکومت جو من مانی کرتی ہے وہ جمہوریت کیلئے اچھی نہیں ہوتی۔‘‘

بدھ کو لوک سبھا کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، کانگریس سربراہ سونیا گاندھی، شرومنی اکالی دل کے سکھ بیر سنگھ بادل اور دیگر  نے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی جنہوں نے اگلے سیشن کو ٹھیک طرح چلانے کیلئے تعاون کی اپیل کی۔  میٹنگ میں ٹی ایم سی ، وائی ایس آر کانگریس  اور بی جےڈی کے لیڈر بھی شامل تھے۔  اجلاس کے دوران ایک دوسرے  کے مد مقابل رہنےوالےان لیڈروں  نے  اسپیکر کے چیمبر  میں مسکراتے ہوئے گفتگو کی۔ 

اپوزیشن اور حکومت دونوںنے ایوان کی کارروائی ٹھیک سے نہ چلنے کیلئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا۔  کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری جو میٹنگ میں شریک تھے، نے بعد میںمیڈیا سے گفتگو کرتےہوئےکہا کہ’’آج میں نے پہلی بار وزیراعظم کو دیکھا۔ جب سب کچھ ختم ہوگیا  تب وہ نظر آئے۔او بی سی بل کو چھوڑ کر حکومت نے تمام بل کسی بحث کے بغیر منٹوں میں  پاس کروالئے۔ یہ بھی اس حکومت کا ایک ریکارڈ ہی ہے۔ ‘‘

  نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے بتایا کہ مہینے بھر چلنے والے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں صرف ۲۱؍ گھنٹے کام ہوا ہے جو 22 فیصد ہے۔  دوسری طرف راجیہ سبھا میں  چیئر مین وینکیا نائیڈو ایوان کی کارروائی  ٹھیک  سے نہ چل پانے پر بدھ کوجذبات ہوگئے۔ انہوں نے روتے ہوئے  اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ اپوزیشن کے کچھ اراکین ایوان کی میز پر چڑھ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس کی وجہ سے رات بھر سو بھی نہیں سکے۔ 


Share: